Morning

✿═══════ღஐ✿Ƹ̵̡Ӝ
̵̨̄Ʒ✿ஐღ════════✿
……..•´´•.✿.•´¯ Good Morning! ¯`•.✿.•“•…….

image

image

image

Posted from WordPress for Android

ﺭﯾﺖ ﺳﮯ ﺑﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﭼﮭﮯ ﻓﻨﮑﺎﺭ

ﺭﯾﺖ ﺳﮯ ﺑﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ
ﺍﭼﮭﮯ ﻓﻨﮑﺎﺭ
ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮧ ﮐﻮ ﭨﮭﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ
ﭘﺘﮭﺮ ﻻﺩﻭﮞ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﺒﺎﺭ ﻟﮕﺎﺩﻭﮞ
ﻟﯿﮑﻦ
ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﭘﺘﮭﺮ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺎﻡ
ﺁﺋﮯ ﮔﺎ
ﺳﺮﺥ ﭘﺘﮭﺮ ﺟﺴﮯ ﺩﻝ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﮯ
ﺩﻝ ﺩﻧﯿﺎ
ﯾﺎ ﻭﮦ ﭘﺘﮭﺮﺍﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﺎ ﻧﯿﻞ
ﭘﺘﮭﺮ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺤﯿﺮ ﮐﮯ
ﭘﮍﮮ ﮨﻮﮞ ﮈﻭﺭﮮ
ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﺭﻭﺡ ﮐﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ
ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﮔﯽ
ﺟﺲ ﭘﺮ ﺣﻖ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ
ﻃﺮﺡ ﮔﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﮎ ﻭﮦ ﭘﺘﮭﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ
ﺗﮩﺬﯾﺐِ ﺳﻔﯿﺪ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺮﻣﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺎﮦ ﺧﻮﮞ
ﺟﮭﻠﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﮎ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﺎ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﮯ ﻣﮕﺮ
ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺸﮧ ﺯﺭ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﺎﺗﮫ
ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﺘﻨﮯ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺳﺐ
ﭘﺘﮭﺮ ﮨﯿﮟ
ﺷﻌﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻗﺺ ﺑﮭﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻭ
ﻏﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮭﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﮩﺎﻡ ﺗﯿﺮﺍ ﺫﮨﻦ ِ ﺭﺳﺎ ﺑﮭﯽ
ﭘﺘﮭﺮ
ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻓﻦ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻥ
ﭘﺘﮭﺮ ﮨﮯ
ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺘﮭﺮ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ
ﭘﺘﮭﺮ ﮨﮯ
Sand-Art-Sculptures-By-Award-Winning-Sand-Sculptor-Carl-Jara-1

خواب

خواب !!!
خواہش اور _______ زندگی
کتنی کم ہیں محبت کے لۓ # ماہم
 sun-bokeh-profile-straight

حال دل جس نے سنا گریہ کیا

حال دل جس نے سنا گریہ کیا

حال دل جس نے سنا گریہ کیا
ہم نہ روئے ہا ں ترا کہنا کیا
یہ تو اک بے مہر کا مذکورہ ہے
تم نے جب وعدہ کیا ایفا کیا
پھر کسی جان وفا کی یاد نے
اشک بے مقدور کو دریا کیا
تال دو نینوں کے جل تھل ہو گئے
ابر رسا اک رات بھر برسا کیا
دل زخموں کی ہری کھیتی ہوئی
کام ساون کا کیا اچھا کیا
آپ کے الطاف کا چرچا کیا
ہاں دل بے صبر نے رسوا کیا
شاعر ابن انشا

Image

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیض نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے

ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
سب مایا ہے

اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں
جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
سب مایا ہے

معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشا بھی
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے

کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو
جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو
اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے
سب مایا ہے

جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
تم جانتے ہو ہم کیونکر اس کا نام لکھیں
دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے
سب مایا ہے

وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے
سب مایا ہے

جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں
وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے
سب مایا ہے

جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
اس شہر سے دور ایک کُٹیا ہم نے بنائی ہے
اور اس کُٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے

شاعر ابن انشاء

Image

Aik shair

Amjad woh aankhain jheel si gehri to hain
magar,
Un mein koi bhi akss bhi mere naam ka
nahin..<3

Aside

یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی

یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی

یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی
ہر بات پہ یاد آتی ہے ہر بات اسی کی

جگنو سے چمکتے ہیں اسی یاد کے دم سے
آنکھوں میں لیے پھرتے ہیں سوغات اسی کی

ہر شعلے کے پیچھے ہے اسی آگ کی صورت
ہر بات کے پردے میں حکایات اسی کی

لفظوں میں سجاتے ہیں اسی حسن کی خوشبو
آنکھوں میں چھپاتے ہیں شکایات اسی کی

کیا کیجیئے اچھی ہمیں لگتی ہے ہمیشہ
دیوانگئ دل میں ہر بات اسی کی

جس شخص نے منظر کو نئے پھول دیئے تھے
ہیں دور خزاں پر بھی عنایات اسی کی

آتا ہے نظر مجمع احباب میں عادل
لاکھوں میں اکیلی ہے مگر ذات اسی کی

Image

Previous Older Entries