تھی جس سے روشنی وہ دیا بھی نہیں رہا

تھی جس سے روشنی وہ دیا بھی نہیں رہا
اب   دل  کو  اعتبارِ ہوا  بھی  نہیں  رہا
تُو بجھ گیا تو ہم بھی فروزاں نہ رہ سکے
تُو کھو گیا تو اپنا پتا بھی نہیں رہا
کچھ ہم بھی تیرے بعد زمانے سے کٹ گئے
کچھ ربط و ضبط بھی خدا سے نہیں رہا
گویا ہمارے حق میں ستم در ستم ہوا
حرفِ دُعا بھی ، دستِ دُعا بھی نہیں رہاImage
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: