شاہوں کا شاہ عشق ہے، صدر ِصدور عشق

شاہوں کا شاہ عشق ہے، صدر ِصدور عشق

شاہوں کا شاہ عشق ہے، صدر ِصدور عشق
دربار ِدل میں تخت نشیں ہے حضور عشق

اس حسن ِخوش ادا کی تجلی میں یوں لگا
موسیٰ ہوں، لے گیا ہے، سر ِکوہِ طور عشق

اس بار سامنا تھا سلیمان کا تجھے
بلقیس! اب بھی ہونا تھا تجھ کو ضرور عشق

تیرے دماغ کا بھی زلیخا یہی خلل
منصور تیرے سر کا سارا فتور عشق

صحرا، نواردیوں میں کھپاتا ہے قیس کو
کچے گھڑے پہ کرتا ہے دریا عبور عشق

فرہاد تیرے ہاتھوں کا تیشہ یہی تو ہے
شیریں! تجھے بھی کر گیا ہے چور چور عشق

رانجھے تیرا بھی جرم فقط کار ِعشق ہے
ہیرے! تیرا بھی سارے کا سارا قصور عشق

Advertisements

تصویر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: