محبت ہے

محبت ہے

محبت ہے
جبھی تو کچھ بھی کہتے ہو
تمہاری سرد مہری کے سمندر میں
پڑے چپ چاپ سہتے ہیں
محبت ہے
جبھی تو ہم پرندوں کی طرح سے
لوٹ آتے ہیں
تمہاری ذات کے گنجان برگد میں
جہاں پر کوئی ٹہنی بھی
ہماری خواہشوں کو گھونسلا رکھنے نہیں دیتی

محبت ہے …!
جبھی تو ہم نے تیری یاد کا جگنو
حسیں ، روپہلے چہروں کی ضیاء میں
آج تک کھویا نہیں۔۔
جبھی تو ہم دیے کی طرح جلتے ہیں
سلگتے ہیں
تمھارے ہجر کی تاریک راتوں میں
ہماری خاک کو گر ہواؤں میں اڑاؤ گے
تو واپس لوٹ آئیں گے
ہمیں تو راکھہ ہو کر بھی
” تیرے قدموں میں رہنا ہے ”
محبت ہے

Advertisements

تصویر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: