غزل

غزل


کسی کا یوں تو ہُوا کون عمر بھر پھر بھی ​
یہ حُسن وعشق تو دھوکہ ہے سب، مگر پھر بھی​

ہزار بار زمانہ اِدھر سے گزرا ہے ​
نئی نئی سی ہےکچھ تیری رہگزر پھر بھی​

خوشا اشارہٴ پیہم، زہے سکوتِ نظر​
دراز ہوکے فسانہ ہے مختصر پھر بھی ​

جھپک رہی ہے زمان ومکان کی آنکھیں​
مگر ہے قافلہ، آمادۂ سفر پھر بھی ​

شبِ فِراق سے آگے ہے آج میری نظر​
کہ کٹ ہی جائے گی یہ شامِ بے سحر پھر بھی​

کہیں یہی تو نہیں کاشفِ حیات ومُمات​
یہ حُسن وعشق بظاہر ہیں بے خبر پھر بھی​

لُٹا ہوا چمنِ عشق ہے، نگاہوں کو ​
دِکھا گیا وہی کیا کیا گل وثمر پھر بھی​

خراب ہو کے بھی سوچا کئے ترے مہجور ​
یہی کہ تیری نظر ہے تِری نظر پھر بھی​

ہو بے نیازِ اثر بھی کبھی تِری مٹّی​
وہ کیمیا ہی سہی، رہ گئی کسر پھر بھی​

لپٹ گیا تِرا دیوانہ گرچہ منزل سے ​
اُڑی اُڑی سی ہے کچھ خاکِ رہگزر پھربھی​

تِری نِگاہ سے بچنے میں عمر گزری ہے ​
اُتر گیا رگ جاں میں یہ نیشتر پھر بھی​

غمِ فراق کے کُشتوں کا حشر کیا ہوگا​
یہ شامِ ہجر تو ہوجائے گی سحر پھر بھی​

فنا بھی ہو کے گرانباریِ حیات نہ پوچھ ​
اُٹھائے اُٹھ نہیں سکتا یہ درد سر پھر بھی​

سِتم کے رنگ ہیں ہر اِلتفاتِ پنہاں میں​
کرم نُما ہیں تِرے زور سر بسر پھر بھی​

خطا معاف! ترا عفْو بھی ہے مثلِ سزا​
تِری سزا میں ہے اک شانِ درگزر پھر بھی​

اگرچے بیخودیِ عشق کو زمانہ ہوا !​
فراق، کرتی رہی کام وہ نظر پھر بھی​

Advertisements

تصویر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: