​کسی کی یاد کا وہ لمحہ

کسی کے ساتھ کا اک پل

کافی کا وہ کپ اور سمندر آنکھیں

آج بھی قرض ہے مجھ پر وہ لمحہ وہ پل

آج میل کھولی میں نے برسوں بعد

اور سارا اِن باکس بھرا تھا تیری اِسی میل سے

سوہا