Aik shair

Amjad woh aankhain jheel si gehri to hain
magar,
Un mein koi bhi akss bhi mere naam ka
nahin..<3

اگر اس نوٹس

یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی

یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی

یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی
ہر بات پہ یاد آتی ہے ہر بات اسی کی

جگنو سے چمکتے ہیں اسی یاد کے دم سے
آنکھوں میں لیے پھرتے ہیں سوغات اسی کی

ہر شعلے کے پیچھے ہے اسی آگ کی صورت
ہر بات کے پردے میں حکایات اسی کی

لفظوں میں سجاتے ہیں اسی حسن کی خوشبو
آنکھوں میں چھپاتے ہیں شکایات اسی کی

کیا کیجیئے اچھی ہمیں لگتی ہے ہمیشہ
دیوانگئ دل میں ہر بات اسی کی

جس شخص نے منظر کو نئے پھول دیئے تھے
ہیں دور خزاں پر بھی عنایات اسی کی

آتا ہے نظر مجمع احباب میں عادل
لاکھوں میں اکیلی ہے مگر ذات اسی کی

تصویر

ہر ایک چہرے پہ دل کو گُمان اس کا تھا

ہر ایک چہرے پہ دل کو گُمان اس کا تھا

ہر ایک چہرے پہ دل کو گُمان اس کا تھا
بسا نہ کوئی یہ خالی مکان اس کا تھا
میں بے جہت ہی رہا اور بے مقام سا وہ
ستارہ میرا سمندر نشان اس کا تھا
میں اُس طلسم سے باہر کہاں تلک جاتا
فضا کھلی تھی مگر آسمان اس کا تھا
سلیقہ عشق میں جاں اپنی پیش کرنے کا
جنہیں بھی آیا تھا ان کو ہی دھیان اس کا تھا
پھر اس کے بعد کوئی بات بھی ضروری نہ تھی
مرے خلاف سہی وہ بیان اس کا تھا
ہوا نے اب کے جلائے چراغ رستے میں
کہ میری راہ میں عادل مکان اس کا تھا

تصویر

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے، کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
اک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
آرزؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئی گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
حشر میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
اپنا غم دل کی زباں میں، دل کو سمجھاتا ہوں میں

شاعر آغا حشر

تصویر

خدا رکھے

خدا رکھے

خدا رکھے محبت نے کئے آباد دونوں گھر

میں اُن کے دل میں رہتا ہوں، وہ میرے دل میں رہتے ہیں

داغ دہلوی

تصویر

غزل

غزل


کسی کا یوں تو ہُوا کون عمر بھر پھر بھی ​
یہ حُسن وعشق تو دھوکہ ہے سب، مگر پھر بھی​

ہزار بار زمانہ اِدھر سے گزرا ہے ​
نئی نئی سی ہےکچھ تیری رہگزر پھر بھی​

خوشا اشارہٴ پیہم، زہے سکوتِ نظر​
دراز ہوکے فسانہ ہے مختصر پھر بھی ​

جھپک رہی ہے زمان ومکان کی آنکھیں​
مگر ہے قافلہ، آمادۂ سفر پھر بھی ​

شبِ فِراق سے آگے ہے آج میری نظر​
کہ کٹ ہی جائے گی یہ شامِ بے سحر پھر بھی​

کہیں یہی تو نہیں کاشفِ حیات ومُمات​
یہ حُسن وعشق بظاہر ہیں بے خبر پھر بھی​

لُٹا ہوا چمنِ عشق ہے، نگاہوں کو ​
دِکھا گیا وہی کیا کیا گل وثمر پھر بھی​

خراب ہو کے بھی سوچا کئے ترے مہجور ​
یہی کہ تیری نظر ہے تِری نظر پھر بھی​

ہو بے نیازِ اثر بھی کبھی تِری مٹّی​
وہ کیمیا ہی سہی، رہ گئی کسر پھر بھی​

لپٹ گیا تِرا دیوانہ گرچہ منزل سے ​
اُڑی اُڑی سی ہے کچھ خاکِ رہگزر پھربھی​

تِری نِگاہ سے بچنے میں عمر گزری ہے ​
اُتر گیا رگ جاں میں یہ نیشتر پھر بھی​

غمِ فراق کے کُشتوں کا حشر کیا ہوگا​
یہ شامِ ہجر تو ہوجائے گی سحر پھر بھی​

فنا بھی ہو کے گرانباریِ حیات نہ پوچھ ​
اُٹھائے اُٹھ نہیں سکتا یہ درد سر پھر بھی​

سِتم کے رنگ ہیں ہر اِلتفاتِ پنہاں میں​
کرم نُما ہیں تِرے زور سر بسر پھر بھی​

خطا معاف! ترا عفْو بھی ہے مثلِ سزا​
تِری سزا میں ہے اک شانِ درگزر پھر بھی​

اگرچے بیخودیِ عشق کو زمانہ ہوا !​
فراق، کرتی رہی کام وہ نظر پھر بھی​

تصویر

lafz

lafz

Tujh Ko Socha Tu Her Soch Mein Khushbo Utri

Tujh Ko Likha Tu Her Lafz Mehakte Dekha ?

تصویر

Previous Older Entries Next Newer Entries